حیدرآباد(ایس او نیوز/پریس نوٹ) انجمن علم وادب اور ساوتھ ایشین کلچرل سوسائٹی آف شکاگو کی جانب سے گذشتہ روز یک روزہ آن لائن انٹرنیشنل اردوکانفرنس کا انعقاد عمل میں آیا جس میں 13سے زائد ممالک کے ادیبوں‘ شعراء‘ مختلف یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور بیرونی ممالک میں اردو کے فروغ کے لیے کام کرنے والی انجمنوں کے ذمہ داروں نے شرکت کی۔
بین الاقوامی سطح پر ہونے والی اس طویل آن لائن انٹرنیشنل کانفرنس میں حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ادیبوں‘شعراء اور یونیورسٹیوں کے اساتذہ نے بھی شرکت کی جن میں ڈاکٹررفیعہ سلیم(یونیورسٹی آف حیدرآباد)‘ فرید سحر اوراطیب اعجاز قابل ذکرہیں۔
کانفرنس آرگنائزر غوثیہ سلطانہ(امریکہ) نے ابتداء میں اس کانفرنس کا مقصد بیان کرتے ہوئے کہاکہ زبان اوراپنے ملک کو انسان کبھی نہیں بھول سکتا۔ پڑھنے سے ذہن کھُلتا ہے اوریہی زبان کی غذا بھی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اردو خطرے میں ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اردو قطرہ قطرہ میں ہے۔ اردووالوں کوچاہیے کہ ناامیدہونے کے بجائے اپنا فریضہ ادا کریں۔ مشرق وسطیٰ میں اردو سر چڑھ کربول رہی ہے۔ اردو اظہارخیال کا بہترین ذریعہ ہے۔ بالی ووڈ میں اردوریڑھ کی ہڈی کادرجہ رکھتی ہے۔ اردومیں نئے تجربات ضروری ہے اس سے نئی راہیں ہموار ہوسکتی ہیں۔ لاک ڈاؤن میں مشاعرے آن لائن زیادہ ہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ وہ حیدرآباد سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کی دوکتابیں سلیمان اریب فن اور شخصیت اور شمالی امریکہ کی ادبی سرگرمیاں منظرعام پرآچکی ہیں اور وہ ہمیشہ فروغ اردو کے لیے کام کرتی رہی ہیں۔مزید انہوں نے کہاکہ ہماری دعوت پر دنیا بھر سے لوگ اس کانفرنس میں شریک ہوئے ہیں اس کے لیے انجمن علم وادب اور ساوتھ ایشین کلچرل سوسائٹی آف شکاگو ان کی شکرگذار ہیں۔
کانفرنس کا آغاز واصف مولجی کی قرأت کلام پاک سے ہوااوراطیب اعجاز نے نعت شریف پیش کی۔ نصر ملک (ڈنمارک)صدرکانفرنس نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ تمام زبانیں محبت کا پیغام دیتی ہے اوراردوبھی یہی کام کرتی ہے۔ سماجی اقدار اور انسانی رشتوں کومضبوط بنانے میں بھی اردوزبان رول ادا کرتی ہے۔ اردو زبان سماجی بھلائی‘ قومی اتحاد اور لوگوں کوجوڑنے کاکام کررہی ہے لیکن بدقسمتی سے برصغیرہندوستان اورپاکستان میں اردو کو مذہبی لبادہ اڑادیاگیا ہے جو افسوس کی بات ہے۔
یہ کانفرنس چار نشستوں پرمشتمل تھی۔کانفرنس میں عالمی سطح پر اردو زبان وادب کی اہمیت اور افادیت کو اجاگر کیا گیا جبکہ محبت،اتحاد وامن کے حوالے سے مقررین نے اپنے خیالات کااظہار کیا۔کانفرنس کے آر گنائزرغوثیہ سلطانہ (امریکہ)، ڈاکٹر ریاض توحیدی (کشمیری)تھے جبکہ ڈاکٹر نور الامین(پر بھنی) اور شگفتہ فردوس(پاکستان) نے بطور معاون کانفرنس میں معاونت کی۔ جبکہ نصر ملک (ڈنمارک)نے کلہم نشستوں کی صدارت کی۔
کانفرنس کی پہلی نشست کی صدارت پروفیسر اسلم جمشید پوری (میرٹھ)اور ڈاکٹر افضال بٹ (سیالکوٹ)نے کی۔اس نشست میں ”اردو فکشن اور شاعری میں محبت،امن اور اتحاد“ کے عنوان کے تحت مہمانان خصوصی پروفیسر رانا اعجاز حسین (کویت)،سید انور ظہیر رہبر (جرمنی)نے مقالات پیش کئے جبکہ اسی موضوع کے تحت مہمانان اعزازی شاز ملک (فرانس)،ڈاکٹر محمد فخر الحق نوری (پاکستان)،ڈاکٹر نازیہ جافو خان (مورشیس)،ڈاکٹر نعیمہ بی بی (اسلام آباد)نے پْرمغز مقالات پیش کئے۔اس نشست میں شعراء وشاعرات نے اپناکلام پیش کرکے سامعین وناظرین کو محظوظ کیا۔پہلی نشست کی نظامت وابتدائیہ کے فرائض غوثیہ سلطانہ نے انجام دئے۔
کانفرنس کی دوسری نشست کی صدارت وفیسر ڈاکٹر مولابخش (علی گڈھ)،ڈاکٹر محمد کامران (لاہور)نے کی۔تنویر احمد تماپوری (ریاض)،تحسین گیلانی (پاکستان)نے مہمانان خصوصی کی حیثیت کانفرنس میں شرکت کرکے مقالات پیش کئے جبکہ اسی نشست میں پروفیسر مسرور قریشی (امریکہ)،ڈاکٹر شیخ فرزانہ (شولاپور)اور،ڈاکٹر سن مستر نوگھڑے (ممبئی) نے مقالات پیش کیے۔ صائمہ کامران (پاکستان)، شمشادجلیل شاد (پونا) اورمحشر فیض آبادی (ممبئی)نے اپنا کلام پیش کرکے خواتین وحضرات کے دلوں کو معطر کیا۔ ڈاکٹر ریاض توحیدی کشمیری نے اس نشست میں نظامت کے فرائض انجام دئے۔
کانفرنس کی تیسری نشست کی صدات پروفیسر سلیم محی الدین (صدر شعبہ اردو شیوا جی کالج پربھنی)نے کی۔ڈاکٹر ولاجمال (مصر)اوررضیہ فصیح (امریکہ) نے بطور مہمانان خصوصی شرکت کی اورمحبت۔امن اور اتحاد“ پر فصیح وبلیغ انداز میں مقالات پیش کئے۔نشست میں ڈاکٹر کیرتی مالنی جاوڑے (اورنگ آباد)،رانامجاہد حسین (پاکستان) اورقربان علی (پاکستان) نے بطور مہمانان اعزازی حصہ لیکر مقالات پیش کئے جبکہ افضال الرحمن افسر (شکاگو)،عابد رشید (شکاگو)،سیما عابدی (شکاگو)،تمیز احمد پرواز(ناند یڈ)نے کلام پیش کرکے تمام شرکائے محفل کو محظو ظ کیا۔نشست میں نظامت کے فرائض ڈاکٹر شگوفتہ فردوس (پاکستان) نے بہ حسن خوبی انجام دئے۔
کانفرنس کی چوتھی نشست کی صدارت ڈاکٹر احمد علی برقی (دہلی)،پروفیسر ڈاکٹر ارشد عبدالمجید (راجستھان) نے کی۔ڈاکٹر فریدہ تبسم (گلمبرگہ)،علی نثار (کنیڈا)نے شرکت کی اور مقالات پیش کئے جبکہ ڈاکٹر رفیعہ سلیم (حیدر آباد)نے ”اردوافسانہ میں امن واتحاداور محبت کے حوالے سے اپنا مقالہ پیش کیا۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر گلزار احمد بٹ (راجستھان)نے مقالات پیش کئے اور ناظم نذیر (کشمیر) نے منتخب عنوان کے تحت صحافتی گفتگو پیش کرتے ہوئے محبت،امن اور اتحاد پر بات کی۔جبکہ حضرت حامد امرہوی (امریکہ)،ڈاکٹر منیر الزمان منیر (امریکہ)،شیخ رشید (شکاگو)،ڈاکٹر توفیق انصاری احمد (امریکہ)نے مہمانان اعزازی کے طور پر شرکت کرکے اپنا کلام پیش کیا۔آخر میں ڈاکٹر نورالامین (شعبہ اردو شارد ا مہاودیالیہ۔پربھنی)نے تحریک شکرانہ پیش کرکے تمام مہمانان‘صدور‘ مقالہ نگاران‘فیس بک و یوٹیوب پر دیکھنے والے ناظرین اور اس کانفرنس کے تکنیکی اسٹاف اور محترمہ غوثیہ سلطانہ کی بیٹی کابھی شکریہ ادا کیا اوران تمام کا بھی جورات کے آخر تک اس عالمی کانفرنس کی کامیابی کیلئے دن رات کوشاں رہے۔
واضح رہے کہ کانفرنس کی تمام نشستوں کے صدور اور مہمانان نے اپنے خیالات ومقالات میں اردو زبان ادب کو عالمی سطح کی زبان قرار دیتے ہوئے کہا کہ اردوزبان دنیا کی تیسری بڑی زبان کی حیثیت رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس زبان میں کوئی بھید وبھاؤ نہیں ہے بلکہ ہر کوئی اس کی شیرنی اور محبت کی آڑمیں اس کا شیدائی بناہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ امن واتحاد کے قیام کیلئے اردو زبان نے اہم کردار ادا کیا ہے اور ہر محاذ پر سماج کی ہی نہیں بلکہ انسانیت کی بقاء اور فلاح کیلئے اہم کام انجام دئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اردو کی ترویج اور ترقی کے ہم متمنی ہیں اور ہر سطح پراس زبان کو فروغ دینا ہماری ذمہ داری ہے کیونکہ اس زبان کے توسط سے گلوبل یعنی عالمی سطح کے لوگ آپس میں محبت سے جڑرہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اردو زبان میں جو ادب پایا جاتا ہے وہ شاید کسی اور زبان میں ملنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔اس موقع پر انہوں نے انجمن علم وادب اور ساوتھ ایشن کلچرل سوسائٹی آف شکا گو کے آرگنائزرس اور منتظمین کو خراج تحسین پیش کیا کہ انہوں نے عالمی سطح کے محبان اردو کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی کامیاب کوشش کی۔